29 اکتوبر 2012 - 20:30

ميانمار ميں مسلمانوں کے خلاف ايک ہفتے سے جاري تشدد ميں ايک سو بارہ سے زائد افراد جاں بحق اور بائيس ہزار سے زائد بے گھر ہوگئے ہيں -

ابنا: اقوام متحدہ کے خصوصي ايلچي اشوک نگم نے بتايا ہے کہ ميانمار کے صوبہ راخين ميں ايک ہفتے سے جاري تشدد کے نتيجے ميں چار ہزار چھے سو پينسٹھ رہائشي مکانات نذر آتش ہوکے ختم ہوچکے ہيں - انہوں نے بتايا کہ روہنگيا مسلمانوں پر بدھسٹوں کے حاليہ حملوں ميں بائيس ہزار پانچ سو ستاسي افراد بے گھر ہوگئے ہيں - انہوں نے بتايا کہ ميانمار کے مغربي علاقوں کے حالات بہت تشويشناک ہيں -  خبر رساں اداروں کے مطابق انتہا پسندبدھسٹوں کے حملوں ميں ايک ہفتے ميں ايک سو بارہ سے زائد افراد مارے گئے ہيں -  ميانمار ميں روہنگيا مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند بدھسٹوں کے وحشيانہ تشدد کا سلسلہ ايک سال سے جاري ہے جن ميں ہزاروں مسلمان مارے گئے ہيں اور اس ملک کي پوليس اور سيکورٹي فورس نے نہ صرف يہ کہ مسلمانوں کي حفاظت ميں کوئي قدم نہيں اٹھايا ہے بلکہ رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں پر  وحشيانہ حملوں ميں انتہا پسند بدھسٹوں کا ساتھ ديا ہے - تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ميانمار ميں مسلمانوں کے قتل عام کي  حکومت ميانمار کي جانب سے  حمايت  اور بين الاقوامي اداروں کي خاموشي نے حملوں اور تشدد کا سلسلہ جاري رکھنے کے لئے  انتہا پسند بدھسٹوں کي حوصلہ افزائي کي ہے-ميانمار ميں روہنگيا مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند بدھسٹوں کے حاليہ حملوں اور وحشيانہ تشدد کي جو تصاوير موصول ہوئي ہيں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبہ راخين کا مسلمان آبادي کا ،  کياؤ کپيو نامي شہر ممکل طور پر صفحہ ہستي سے مٹاديا گيا ہے -ميانمار کے ايک سرکاري عہديدار نے بتايا ہے کہ اکيس سے پچيس اکتوبر کے درميان انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں ميں سڑسٹھ مسلمان مارے گئے ہيں اور ايک ہفتے سے سے زائد عرصے سے  جاري حاليہ  تشدد ميں جمعے تک ايک سو بارہ افراد مارے گئے تھے جن ميں اکسٹھ عورتيں شامل ہيں - يہ ايسي حالت ميں ہے کہ انساني حقوق کي تنظيم ہيومن رائٹس واچ نے اعلان کيا ہے کہ ميانمار ميں مسلمانوں کے خلاف تشدد  کي تازہ لہرميں اس سے کئي گنا زيادہ لوگ مارے گئے ہيں جو حکومت ميانمار نے بتايا ہے - انساني حقوق کي اس تنظيم کا کہنا ہے کہ جھوٹے اعداد و شمار اعلان کرنے ميں ميانمار کي حکومت کا ماضي کافي داغدار  ہے -ميانمار ميں مسلمانوں کے خلاف تشدد اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس ملک کے ايک رکن پارليمنٹ نے کہا ہے کہ اگر صوبہ راخين ميں تشدد اسي طرح جاري رہا تو حکومت کو يہاں ايمرجنسي کا اعلان کرنا پڑے گا -قابل ذکر ہے کہ ميانمار کے تين شمالي صوبوں ميں سيکڑوں سال سے روہنگيا مسلمان آباد ہيں جن کي آبادي   آٹھ لاکھ سے زائد بتائي جاتي ہے ليکن ميانمار کي فوجي حکومت نے انيس سو بياسي ميں ايک قانون پاس کرکے ، ان کي شہريت ختم کردي ہے اور انہيں ميانمار کا شہري تسليم کرنے کے لئے تيار نہيں ہے -......./169